مثبت پرورش

اسلامی پرورش کے اصول

ہم کسی بھی معاشرے میں رہتے ہوں، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنے بچوں میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیم و تربیت کا بھی اہتمام کریں۔ اس لیے ہم انہیں قرآن پڑھواتے اور نماز یاد کرواتے ہیں۔ لیکن بحیثیت والدین ہمیں اپنے بچوں کو کیا دیں کہ وہ اسلام کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے مسلمان ہونے پر فخر کریں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ والدین کی

عمر کے لحاظ سے بچوں کے کرنے کے کام

چھوٹے بچوں کو خود سے کام کرنا اچھالگتا ہے۔ انھیں ماں باپ کی مدد کرنا پسند ہوتا ہے۔انھیں بڑوں کی طرح بننا اچھا لگتا ہے۔ ان میں نئے کام کرنے اور کچھ نیا سیکھنے کی خواہش ہوتی ہے۔ بہت سے والدین بچوں کی اس خواہش کو نہیں سمجھتے اور انھیں یہ کہہ کہہ کر بہت لمٹ کردیتے ہیں کہ ابھی تم بچے ہو۔ جبکہ گھر کے چھوٹے چھوٹے کام کرنے

کیا آپ میں بحثیت والدین یہ چھ خوبیاں موجود ہیں

عدیلہ کوکب کہا جاتا ہے ”تربیت وہی کارآمد ہے جو اپنے قول سے نہیں افعال کے ذریعے کی جائے“۔اس لیے ضروری ہے کہ خود والدین میں کچھ اوصاف ہونے چاہیں تا کہ بچے والدین سے سیکھیں اور ان کی ہر بات کو مانیں۔ اس آرٹیکل میں ہم چند اوصاف کا جائزہ لیں گے جو والدین میں پائے جانے چاہیں۔   احساسِ ذمہ داری تربیت دینےوالے کے لیے سب سے اہم

بچوں کو"ناں" کہنا سیکھیں

بچوں کو ڈسپلن سیکھانا کافی مشکل کام ہے۔ کبھی کبھار یہ عمل کافی تکلیف دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ جب بچے اداس اور غضبناک ہوں تو والدین خوش کیسے رہ سکتے ہیں، اسی طرح بچے بھی ناخوش رہیں گے۔ اگر بچوں کو غلط طریقے سے کسی چیز سے منع کیا جائے تو یہ رویہ دیرپا نقصانات کا باعث بن سکتاہے لیکن اگر اسے صحیح طریقے سے کیا جائے تو

ایک حد تک اپنے بچوں سے امیدیں اور توقعات رکھنا صحیح ہے لیکن اس سے پہلے اپنے آپ کو بدلیے۔ جیسا آپ اپنے بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں پہلے وہ خود بنیے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ جھوٹ نہ بولے تو پہلے آپ خود جھوٹ بولنا چھوڑیے۔ یہ ہی مثبت تربیت ہے۔