حمل میں کیا کھائیں

حمل میں دوگنا خوراک حقیقت یا خام خیالی

عورتوں میں یہ خیال عام ہے کہ حاملہ کو دوگنی خوراک کھانی چاہیے ایک اپنے حصے کی اور ایک بچے کے حصے کی۔دوسری طرف کچھ عورتوں کہتی ہیں کہ اگر حاملہ زیادہ کھائے گی تو بچہ بہت موٹا ہوجائے گا اور پیدائش کے وقت سخت تکلیف ہوگی۔ یہ باتیں لاعلمی اور جہالت پر مبنی ہیں۔ بچے کو ماں کے خون کے ذریعے سیال غذا پہنچتی ہے اور خوارک کی کمی

حمل: کیا کھائیں اور کیا  نہ کھائیں

یقیناً ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایک صحت مند بچے کو جنم دے۔ اس خواہش کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے حاملہ عورت خود اپنی صحت کی حفاظت کرے کیونکہ اگر وہ خود صحت مند ہوگی تو اس کے رحم میں پرورش پانے والا بچہ بھی صحت مند ہوگا۔ کیونکہ بچے کی صحت ونشونما کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ماں