مثبت تربیت

کیا آپ میں بحثیت والدین یہ چھ خوبیاں موجود ہیں

عدیلہ کوکب کہا جاتا ہے ”تربیت وہی کارآمد ہے جو اپنے قول سے نہیں افعال کے ذریعے کی جائے“۔اس لیے ضروری ہے کہ خود والدین میں کچھ اوصاف ہونے چاہیں تا کہ بچے والدین سے سیکھیں اور ان کی ہر بات کو مانیں۔ اس آرٹیکل میں ہم چند اوصاف کا جائزہ لیں گے جو والدین میں پائے جانے چاہیں۔   احساسِ ذمہ داری تربیت دینےوالے کے لیے سب سے اہم

بچوں کو"ناں" کہنا سیکھیں

بچوں کو ڈسپلن سیکھانا کافی مشکل کام ہے۔ کبھی کبھار یہ عمل کافی تکلیف دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ جب بچے اداس اور غضبناک ہوں تو والدین خوش کیسے رہ سکتے ہیں، اسی طرح بچے بھی ناخوش رہیں گے۔ اگر بچوں کو غلط طریقے سے کسی چیز سے منع کیا جائے تو یہ رویہ دیرپا نقصانات کا باعث بن سکتاہے لیکن اگر اسے صحیح طریقے سے کیا جائے تو

ابتدائی تربیت

 پیدائش سے لے کر ایک سال کی عمر تک پیدائش کے وقت بچے اپنے ارد گرد کے ماحول کو بہت ہی کم سمجھ پاتے ہیں۔ وہ دیکھتے اور سنتے تو ہیں مگر ابھی سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ پیدائش کے ابتدائی چند ہفتوں تک وہ یہ سمجھ نہیں پاتے کہ وہ بھی دنیا میں کوئی علیحدہ وجود رکھتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ انہیں دنیا میں کسی

ایک حد تک اپنے بچوں سے امیدیں اور توقعات رکھنا صحیح ہے لیکن اس سے پہلے اپنے آپ کو بدلیے۔ جیسا آپ اپنے بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں پہلے وہ خود بنیے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ جھوٹ نہ بولے تو پہلے آپ خود جھوٹ بولنا چھوڑیے۔ یہ ہی مثبت تربیت ہے۔