parenting

اسلامی پرورش کے اصول

ہم کسی بھی معاشرے میں رہتے ہوں، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنے بچوں میں دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیم و تربیت کا بھی اہتمام کریں۔ اس لیے ہم انہیں قرآن پڑھواتے اور نماز یاد کرواتے ہیں۔ لیکن بحیثیت والدین ہمیں اپنے بچوں کو کیا دیں کہ وہ اسلام کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے مسلمان ہونے پر فخر کریں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ والدین کی

سخت سزائیں اور بچے

 محمد شارق ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو عمدہ تہذیب و اخلاق سے آراستہ کرکے ایک بہترین اور صالح شخصیت کا حامل بنائیں ۔ بچپن میں ان کی غلطیوں پر سرزنش کرنا، انھیں مختلف چیزیں سکھانا، اسکول و مدرسہ بھیجنا اور برائی عادتوں سے روکنے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ بچے بڑے ہو کر کسی بری عادت کا شکار نہ ہوجائیں۔مگر ان سارے جتن

کیا آپ میں بحثیت والدین یہ چھ خوبیاں موجود ہیں

عدیلہ کوکب کہا جاتا ہے ”تربیت وہی کارآمد ہے جو اپنے قول سے نہیں افعال کے ذریعے کی جائے“۔اس لیے ضروری ہے کہ خود والدین میں کچھ اوصاف ہونے چاہیں تا کہ بچے والدین سے سیکھیں اور ان کی ہر بات کو مانیں۔ اس آرٹیکل میں ہم چند اوصاف کا جائزہ لیں گے جو والدین میں پائے جانے چاہیں۔   احساسِ ذمہ داری تربیت دینےوالے کے لیے سب سے اہم

بچے اور ہم

د ین اسلام اولاد کی پرورش کی ذمہ داری والدین کے کندھوں پر ڈالتا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ والدین اس ذمہ داری کی اہمیت کو بھولتے جا رہے ہیں اور نتیجتاً ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جس کی ایک مثال کراچی میں محبت کے نام پر دو بچوں کی خودکشی ہے۔ یقیناً معاشرہ ، میڈیا، ماحول، سوشل نیٹ ورکنگ، دوست وہ اہم عوامل ہیں جو کسی بچے پر

بچوں کو"ناں" کہنا سیکھیں

بچوں کو ڈسپلن سیکھانا کافی مشکل کام ہے۔ کبھی کبھار یہ عمل کافی تکلیف دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ جب بچے اداس اور غضبناک ہوں تو والدین خوش کیسے رہ سکتے ہیں، اسی طرح بچے بھی ناخوش رہیں گے۔ اگر بچوں کو غلط طریقے سے کسی چیز سے منع کیا جائے تو یہ رویہ دیرپا نقصانات کا باعث بن سکتاہے لیکن اگر اسے صحیح طریقے سے کیا جائے تو

ایک حد تک اپنے بچوں سے امیدیں اور توقعات رکھنا صحیح ہے لیکن اس سے پہلے اپنے آپ کو بدلیے۔ جیسا آپ اپنے بچوں کو دیکھنا چاہتے ہیں پہلے وہ خود بنیے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ جھوٹ نہ بولے تو پہلے آپ خود جھوٹ بولنا چھوڑیے۔ یہ ہی مثبت تربیت ہے۔      

آپ کیسے والدین ہیں؟

اپنے بچوں کی بہترین پرورش کے لیے ہمیں اپنے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم کس قسم کے والدین ہیں؟ یعنی یہ کہ ہمارا رویہ اپنے بچوں کے ساتھ کس قسم کا ہے؟ اس سلسلے میں کی گئی تحقیق کے مطابق والدین کو رویوں کے اعتبار سے مختلف قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ AUTHORITARIAN PARENTING آمریت پسندانہ پیرنٹنگ  PERMISSIVE PARENTINGغیر مزاحم پیرنٹنگ NEGLECTFUL PARENTING لاتعلقانہ پیرنٹنگ AUTHORITATIVE